top of page

ترانہ جامعہ غنیتہ العلوم اخیار پور بھلیس

یہ علم کی بہتی دھارا ہے قلزم کبھی کہلائے گا

وہ نور کی بارش ہو گی یہاں یہ سارا جہاں نہلائے گا

لاالہ الااللہ لاالہ الااللہ

یہاں خلق کے چشمے پھوٹیں گے اور صدق کے موتی بکھریں گے

وہ ابر کرم برسے گا یہاں یہ باغ ارم بن جائے گا

لاالہ الااللہ لاالہ الااللہ

وہ ہی عدل یہاں سے پھیلے گا فاروق نے جو پھیلایا تھا

اس بزم کا اک اک پروانا   فاروق زماں کہلائے گا

لاالہ الااللہ لاالہ الااللہ

یہ گلشن ہے صدیقی کا یہاں  پھول کھلیں گے رنگ رنگ کے

ہر ذرہ معطر ہوگا یہاں یہ باغ جنا کہلائے گا

لاالہ الااللہ لاالہ الااللہ

یہ بزم غنی پوری ہے یہاں ہر وقت برستی ہے رحمت

اس بزم سے جو بھی گرزے گا ایمان کی خوشبو پائے گا

لاالہ الااللہ لاالہ الااللہ

آب خلوص سے خاکی نے سینچا تھا کبھی اس گلشن کو

سر سبز ہے تب سے اب تک یہ تاحشر یونہی لہلائے گا

لاالہ الااللہ لاالہ الااللہ

اخیار کی نسبت سے پھیلے گا فیض فریدالدین یہاں

اخیار پورہ کہلاتا ہے اخیار پورہ کہلائے گا

لاالہ الااللہ لاالہ الااللہ

اس اہل یقیں کی محفل میں بس اہل نظر ہوں گے پیدا

مل جائے گا جس کو امن و ماں اس علم کے جام پلائے گا

لاالہ الااللہ لاالہ الااللہ

جو دیار نبی سے اٹھی تھی وہ خوشبو یہاں پر مہکے گی

مہکے گا یہاں ہر کوہ و دمن ہر برگ و شجر رنگ لائے گا

لاالہ الااللہ لاالہ الااللہ

Congratulations ***** , your Application has been submitted!

© 2020 By Jamia Gani Tul Uloom  

bottom of page